ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیر سے ضرورت پر مبنی نہیں، جذباتی رشتہ چاہتے ہیں:راج ناتھ سنگھ

کشمیر سے ضرورت پر مبنی نہیں، جذباتی رشتہ چاہتے ہیں:راج ناتھ سنگھ

Sun, 24 Jul 2016 20:27:05    S.O. News Service

وزیرداخلہ نے امن کی اپیل کی،فورسزکوبھی طاقت کے استعمال سے پرہیزکی ہدایت،پاکستان پراکسانے کاالزام
سرینگر24جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ بھارت حکومت جموں و کشمیر کے ساتھ ضرورت کی بنیاد رشتہ نہیں بناناچاہتی بلکہ ایسا رشتہ چاہتی ہے جو جذبات پرمبنی ہو۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ کشمیر وادی میں امن اور عام حالات بحال ہونے دیں۔راج ناتھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی وادی کے حالات سے بہت پریشان ہوں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد کی لال مسجد میں دہشت گردوں کے خلاف مہم چلارہاہے، دوسری طرف کشمیر میں نوجوانوں کو ہتھیار اندوز کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔راج ناتھ نے کہاکہ اسے روکا جانا چاہئے۔پاکستان کا کردار ٹھیک نہیں ہے۔اسے جموں وکشمیرکے بارے میں اپنی عادت اور سوچ بدلنی چاہئے۔راج ناتھ نے بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے سیکورٹی فورسز پر زور دیا کہ انہیں فائرنگ سے بچنا چاہئے۔راج ناتھ نے وادی کا دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب 8جولائی کو ایک تصادم میں حزب مجاہدین کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سڑکوں پر بھڑکے احتجاجی مظاہروں میں اب تک45سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر کے دورے پر گئے راج ناتھ سنگھ نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور دیگر کئی رہنماؤں سے ملاقات کی۔انہوں نے کہاکہ پڑوسی ملک خود دہشت گردی کاشکارہے، اسے دہشت گردی کو نہیں اکسانا چاہئے۔سیکورٹی فورسز زیادہ سے زیادہ صبر برتیں۔کشمیری نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پتھر بازی نہ کریں۔کشمیر میں امن کی بحالی میں عام لوگوں اور پریس سے تعاون کی اپیل کرتا ہوں۔انہوں نے یقین دلایاکہ زخمیوں کے علاج میں ہم پیچھے نہیں رہیں گے۔میں نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے کہا ہے کہ اگر ضرورت ہوتوزخمیوں کو دہلی بھیجا جائے۔حکومت ان کا علاج ایمس میں کرائے گی۔صاف کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت ہند، کشمیر کے ساتھ صرف ضرورت کا نہیں، بلکہ جذباتی رشتہ بھی رکھنا چاہتی ہے۔ہم غیر جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال کے طریقوں کو لے کرایک ماہر کمیٹی کا قیام کریں گے۔جو ہمیں 2ماہ میں رپورٹ سونپے گی۔جموں و کشمیر کے حالات پر ہم کسی تیسری پارٹی کی مداخلت نہیں چاہتے۔پھر دوہراتے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اسے بات چیت کے ذریعہ حل کیاجاسکتاہے۔پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے، اس کشمیر میں تشدد کو فروغ نہیں دینا چاہئے۔ریاست میں ایک بار امن بحال ہونے کے ساتھ ساتھ حالات معمول ہو جائیں، ہم جو بھی چاہتا ہے اس سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔


Share: